ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مودی کی خاموشی اور جلتاہوا ہندوستان بنگال ،بہار،یوپی ،مدھیہ پردیش کے بعد راجستھان اور دہلی میں بھی فرقہ وارانہ تشدد

مودی کی خاموشی اور جلتاہوا ہندوستان بنگال ،بہار،یوپی ،مدھیہ پردیش کے بعد راجستھان اور دہلی میں بھی فرقہ وارانہ تشدد

Mon, 02 Apr 2018 12:02:32    S.O. News Service

بنگلورویکم اپریل(سالاررپورٹ)شمال مشرقی ریاستوں خصوصاًتریپورہ میں بی جے پی کی فتح اور لیفٹ کی شکست کے بعد سے آج تک شرپسند عناصر نے فرقہ وارانہ تشدد کا بازار گرم رکھاہے۔اپنے چار سالہ دور حکومت میں ہرمحاذپر ناکامی کے بعد عوام کے سامنے جوابدہ ہونے کے خوف سے بی جے پی ہندتوا کے ووٹ کو متحد کرنے کیلئے قابل مذمت چال چل رہی ہے۔2019کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو مرکز کی کرسی کھسکتی ہوئی نظر آرہی ہے ،اسی وجہ سے وہ ایک طرف تو ہندو ووٹ کواپنی طرف راغب کرنے میں لگی ہوئی ہے وہیں طلاق ثلاثہ،نکاح حلالہ اور متعہ جیسے ایشوز کو چھیڑ کر وہ چند مسلمانوں کو بھی اپنی طرف لانے کی کوشش میں ہے۔گزشتہ چند مہینوں سے فرقہ وارانہ تشدد رکنے کا نام ہی نہیں لے رہاہے۔ بنگال، بہار اور اتر پردیش تو ایسی ریاستیں بنتی جا رہی ہیں کہ جہاں شاید ہی کوئی دن ایسا جاتا ہو جس دن کسی علاقہ سے فرقہ وارانہ تشدد کی خبریں نہیں آتی ہوں۔ اب کل راجستھان سے بھی ایسی خبریں موصول ہوئی ہیں۔ راجستھان کے پالی ضلع کے جیتارن قصبہ میں فرقہ وارانہ تشدد ہونے کے بعد پورے علاقہ میں تناؤ پھیل گیا۔ پولیس کے مطابق ہنومان جینتی کے جلوس کو لے کر یہ دنگا پھیلا۔ پولیس کے مطابق اس تشدد میں پولیس اہلکار سمیت تقریباً درجن بھر افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس دنگے میں چھہ گاڑیوں اور کچھ وکانوں کو نذر آتش کر دیا گیا۔ضلع افسر سدھیر کمار شرما نے بتایا کہ حالات کو قابو میں کرنے کے لئے دفعہ 144لاگو کر دی گئی ہے۔ یہ دنگا اس وقت بھڑکا جب ہنومان جینتی کا جلوس قصبہ کے مین بازار سے گزر رہا تھا۔ اس وقت کچھ شر پسند عناصر نے پتھراؤ کیا اور اس کے بعد سے پتھرؤ شروع ہو گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے قصبہ میں تشدد بھڑک اٹھا۔ذرائع کے مطابق اس تشدد میں ایک چھوٹے مال کو بھی آگ لگا دی گئی۔ایسا لگ رہا ہے کہ فرقہ وارانہ تشدد لوگوں کی زندگی کا حصہ بنتا جا رہا ہے کیونکہ حکومتیں خاموش بیٹھی نظر آ رہی ہیں جس سے شر پسند عناصر کے حوصلہ بڑھ رہے ہیں۔دوسری جانب شرپسندوں نے دہلی کے منڈاولی علاقہ میں ہاتھوں میں ننگی تلواریں لے کر ہنومان جینتی کے ایک دن بعد ہنومان کا جلوس نکالااور یہاں واقع محمدی مسجد پر اشتعال انگیز نعرے بازی کی۔ یہ گروہ تقریباً 10۔15 منٹ تک کھلے عام تلواریں اور دیگر ہتھیار لئے ہوئے تھا۔نعرے بازی کرتے ہوئے اور دھمکیاں دیتے ہوئے یہ گروہ آگے چلا گیا۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ جلوس کے ساتھ چند پولیس اہلکار بھی چل رہے تھے یہاں تک کہ پولیس کی ایک گاڑی بھی جلوس کے پیچھے پیچھے چل رہی تھی (حالانکہ اس میں ڈرائیور کے علاوہ کوئی دیگر اہل کلار موجود نہیں تھا)۔ لیکن پولیس اہلکاروں نے شرپسندوں کی نعرے بازی کو نہیں رکوایا۔ یہ گروہ مسجد کے گیٹ پر پٹاخے چھوڑتے رہے، دھمکیاں دیتے رہے اور ہنگامہ آرائی کرتے رہے لیکن پولیس تماشائی کی شکل میں دیکھتی رہی۔ مسجد کی دیواروں پر پٹاخوں سے نکلا ہوا رنگ لگا دیکھا جا سکتا ہے۔اس واقعہ کی وجہ سے علاقہ کے مسلمانوں میں زبردست دہشت پھیل گئی۔ آناً فاناًمیں پولیس کو اطلاع دی گئی اور پولیس موقع پر پہنچی۔منڈاولی تھانہ میں جب یہ دریافت کرنے کے لئے کال کی گئی کہ جلوس نکالنے کی اجازت تھانہ سے لی گئی ہے یا نہیں تو پہلے تو وہاں سے کہا گیا کہ کنٹرول روم کال کر کے پتہ کریں۔ کنٹرول روم میں کال کی گئی تو کہا گیا وہی منڈاولی تھانہ سے پتہ کریں۔ اس کے بعد دوبارہ جب منڈاولی تھانہ میں کال کی گئی تو کہا گیا کہ ایس ایچ او صاحب موقع پر ہیں وہ ہی اس کے بارے میں کچھ بتا پائیں گے ہمیں میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔یہ سب کچھ ہو جانے کے تھوڑی دیر بعد جلوس میں جانے والے شرپسند تلواریں لے کر پھر سے واپس آ ئے۔ انہوں نے پھر سے نعرے بازی کی کوشش کی۔ پولیس موقع پر موجود تھی اور ان سے تلوارایں بھی ضبط کر لیں اور دو افراد کو پولیس گاڑی میں بٹھا کر لے گئے۔ نعرے بازی کرنے والے ملزمین کو دیکھ کر مسلم طبقہ مشتعل ہو گیا اور پولیس کی گاڑی کو مسلمانوں نے روکنے کی کوشش کی۔ دونوں ملزمین کو پولیس نے گاڑی میں تو بٹھایا لیکن جب تھانہ میں کال کر کے پوچھا گیا کہ ان کو حراست میں لیا گیا ہے یا نہیں تو اس کی معلومات تھانہ سے نہیں دی گئی اور کہا گیا کہ جو پولیس اہلکار موقع پر گئے تھے وہ ابھی واپس نہیں پہنچے ہیں۔منڈاولی علاقہ کے حالات اس وقت بہت سنگین ہو چلے ہیں۔ مسلم طبقہ میں اس بات کو لے کر بے چینی ہے کہ مسجد کے سامنے قابل اعتراض نعرے بازی کی گئی اور جان سے مارنے اور سر کاٹنے کی دھمکیاں دی گئیں۔واقعہ کے وقت موقع پر موجود فیروز خان کا کہنا ہے کہ ’’جس طرح کی نعرے بازی وہ شرپسند کر رہے تھے اگر ایک بھی مسلم نوجوان انہیں ٹوک بھی دیتا تو فساد پھیلنے کا پورا اندیشہ تھا۔ ‘‘ساجد سیفی کا کہنا ہے ’’جلوس کے پیچھے پیچھے چل رہی گاڑی کو ڈرائیو کر رہے پولیس اہلکار سے جب میں نے پوچھا کہ آپ انہیں روک کیوں نہیں رہے تو اس نے کہا کہ جلوس میں اتنا تو ہوتا ہی ہے۔ یہ معمولی بات ہے۔ ‘‘محمد عمران کا کہنا ہے کہ ’’بنگال، بہار اور راجستھا ن میں جس طرح فساد پھیلایا گیا ہے یہ اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کے پاس ووٹ حاصل کرنے کایہی ایک واحد طریقہ ہے۔ سارے ملک کے بعد اب یہ راجدھانی دہلی کی فضا بھی خراب کرنے پر آمادہ ہو گئے ہیں۔‘


Share: